سفر آخرت
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - عقبٰی کی طرف روانگی، دنیا سے کوچ، موت، انتقال۔ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سفر آخرت کا وقت آ پہنچا ہے۔" ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٣٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سفر' کے بعد کسرہ اضافت لگا کر عربی ہی سے ماخوذ اسم 'آخرت' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٩١ء سے "طلسم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عقبٰی کی طرف روانگی، دنیا سے کوچ، موت، انتقال۔ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سفر آخرت کا وقت آ پہنچا ہے۔" ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٣٢ )
جنس: مذکر